تجھ کو پانے کی ضد میں خود کو کھو دیا ہم نے | Sad Urdu Poetry
تجھ کو پانے کی ضد میں خود کو کھو دیا ہم نے | Sad Urdu Poetry محبت کی گلیوں میں جب بھی قدم رکھا، تنہائی کے سوا کچھ ہاتھ نہ لگا۔ تمہیں کیا خبر کہ رات بھر کا جاگنا کیا ہوتا ہے، سسکتی ہوئی یادوں کا سلگنا کیا ہوتا ہے۔ زندگی کے اس سفر میں کچھ لمحے ایسے آتے ہیں جب انسان کے پاس بولنے کے لیے الفاظ اور رونے کے لیے آنسو کم پڑ جاتے ہیں۔ تنہائی جب چاروں طرف سے گھیرا تنگ کرتی ہے، تو کاغذ اور قلم ہی وہ واحد سہارا بنتے ہیں جو دل کا سارا بوجھ ہلکا کر دیتے ہیں۔ اداس شاعری صرف الفاظ کا مجموعہ نہیں ہوتی، یہ کسی ٹوٹے ہوئے دل کی وہ پکار ہوتی ہے جو زبان سے ادا نہ ہو سکے۔ محبت اور جدائی کے اس درد کو الفاظ میں ڈھالنا کوئی آسان کام نہیں ہے۔ جب اپنے ہی بیگانہ ہو جائیں اور راستے الگ ہو جائیں، تو انسان اندر سے بالکل خالی ہو جاتا ہے۔ یادوں کے دیے جلائے رکھنا اور ان کی روشنی میں پرانی گلیوں کو ڈھونڈنا ایک ایسا عذاب ہے جس سے ہر دل شکستہ گزرتا ہے۔ یہ جو آنکھوں میں نمی سی ہے، کسی کی یاد کی کمی سی ہے... لوگ کہتے ہیں کہ بدل گئے ہیں ہم، مگر بات صرف اتنی سی ہے کہ، اب کسی پر بھروسہ کرنے کی ہمت نہیں رہی۔ تجھ کو پانے کی ...