عنوان Sukoon e Qalb: سکونِ قلب کیا ہے اور اسے کیسے حاصل کیا جائے؟
Sukoon-e-Qalb (Peace of the Heart) refers to a state of inner tranquility, contentment, and freedom from restlessness. In Urdu literature and spiritual thought, it is often achieved through divine connection, self-reflection, or profound love. [1, 2, 3, 4, 5]
Famous Verses on Sukoon-e-Qalb
- Ghubar Kiratpuri: “Sukūn-e-qalb ho tum ruuh kā qarār ho tum / Mirī hayāt-e-mohabbat ke rāzdār ho tum” (You are the peace of my heart, the rest of my soul / You are the confidant of my life of love).
- Saeed Iqbal Saadi: “Yahī ādat to hai Saadī sukūn-e-qalb kā bā'is / Maiñ nafrat bhuul jātā hūñ mohabbat bāñT detā hūñ” (This very habit is the cause of my heart’s peace / I forget hatred and distribute love).
- Atheer Nadir: “Sukūn-e-qalb to kyā hai qarār-e-jāñ bhī luTā / Tumhārī yaad bhī āī to rāhzan kī tarah” (Not just peace of heart, even the soul's rest was plundered / Even your memory came like a highwayman). [5, 6, 7, 8]
Short Shayari & Quotes
- Love and Connection: “Sukoon-e-qalb tum se hai, sukoon-e-jaan tum ho / Taajjub ye hai ke seene mein jahan dil tha, wahan bhi tum ho” (The peace of my heart and soul is from you / It is a wonder that where my heart was, now you reside).
- The Paradox of Hardship: “Ishq ke marahil mein woh bhi waqt aata hai / Aaften barasti hain, dil sukoon paata hai” (In the stages of love, a time comes / When calamities rain down, yet the heart finds peace).
- Self-Reflection: “Hum tujhe yoon dhoondte hain / Jaise log sukoon dhoondte hain” (I search for you in the same way / That people search for peace). [9, 10, 11]
: > *ℓιηєѕ*🫐
> تم یاد نہیں کرتی اور ہم بلا نہیں سکتے❤🩹
> *تم ہنسا نہیں سکتی اور ہم رولا نہیں سکتے*🫀
> اتنے خوبصورت محبت ہے ہماری🌸
> کہ تم جان نہیں سکتی اور ہم بتا نہیں سکتے💖
روحِ مَـــن___🫠♥️
وہ ایک شخص جو تمہارے واسطے بنایا ہی نہیں گیا اس اک شخص سے بے انتہا محبت کا دکھ سمجھتے ہو ؟؟🙂💔
•♪• *❉্᭄͜͡⤹⃝ *Heart Beat Of Owner)~❤️ ͟͟͞͞➳❥❉্᭄͜͡*
: کبھی کوئی مجھ سے پوچھے کہ تم نے زندگی میں سب سے زیادہ کیا کیا؟ تو میں مسکرا کر کہوں گی، میں نے “انتظار” کیا ہے۔
انتظار اُن لمحوں کا جو آئے تو سہی مگر ٹھہرے نہیں… انتظار اُن دعاؤں کا جو ہونٹوں سے نکل کر آسمان تک گئیں مگر جواب بن کر واپس نہ آئیں… انتظار اُس محبت کا جو میری طرح بے قرار ہو جائے… اور انتظار اُس اپنے کا جو کبھی میرا تھا ہی نہیں مگر میں نے اُسے ہمیشہ اپنا سمجھا۔
زندگی نے مجھے چلنا سکھایا، مگر انتظار نے مجھے برداشت کرنا سکھایا۔ میں نے وقت کے ہاتھوں میں اپنا دل رکھ کر بس یہی چاہا کہ کبھی تو کوئی لمحہ میرا بھی ہو، کبھی تو کوئی دعا میری بھی قبول ہو، کبھی تو کوئی شخص میری کمی محسوس
کرے… اور کبھی تو کوئی لوٹ آئے صرف میرے لیے🥺
: زیادہ اچھا ہونا بھی غلط ہوتا ہے
پتہ ہی نہیں لگتا کہ لوگ "قدر“ کر رہے ہیں یا " استعمال"💔
"Sukoon-e-Qalb" (سکونِ قلب) یا دل کا سکون صرف ایک لفظ نہیں بلکہ ایک ایسی کیفیت ہے جس کی تلاش آج کے دور میں ہر انسان کو ہے۔ آپ کے بلاگ کے لیے ایک بہترین خاکہ اور مواد درج ذیل ہے:
آج کی اس بھاگ دوڑ بھری زندگی میں ہم سب آسائشوں کے پیچھے تو بھاگ رہے ہیں، لیکن وہ چیز جو کہیں پیچھے رہ گئی ہے، وہ ہے "سکون"۔ ہم اچھے گھر، مہنگی گاڑیاں اور بہترین نوکریاں تو حاصل کر لیتے ہیں، مگر دل پھر بھی بے چین رہتا ہے۔
1. سکونِ قلب کا اصل مفہوم
سکونِ قلب کا مطلب جسمانی آرام نہیں بلکہ روح کا وہ اطمینان ہے جو دنیاوی پریشانیوں کے باوجود انسان کے اندر موجود رہتا ہے۔ یہ وہ حالت ہے جہاں انسان خود کو محفوظ اور پرسکون محسوس کرتا ہے۔
2. دل کا سکون کیسے حاصل کریں؟ (اسلامی نقطہ نظر)
قرآن و سنت کی روشنی میں سکون حاصل کرنے کے چند اہم ذرائع یہ ہیں:
- ذکرِ الٰہی: قرآن پاک میں ارشاد باری تعالیٰ ہے: "بے شک اللہ کی یاد ہی میں دلوں کا اطمینان ہے" (سورۃ الرعد: 28)۔
- نماز میں خشوع: نماز صرف جسمانی حرکات کا نام نہیں بلکہ یہ اللہ سے وہ تعلق ہے جو دل کو نور سے بھر دیتا ہے۔
- توکل: یہ یقین کہ جو کچھ ہو رہا ہے وہ اللہ کی مرضی سے ہے، انسان کو مستقبل کے خوف اور ماضی کے پچھتاوے سے آزاد کر دیتا ہے۔
- شکر گزاری: جو میسر ہے اس پر شکر کرنا سیکھیں۔ ناشکری دل میں بے چینی پیدا کرتی ہے۔
3. ذہنی سکون کے لیے عملی مشورے
- معاف کرنا سیکھیں: دل میں دوسروں کے لیے کینہ یا بغض رکھنا آپ کے اپنے سکون کو برباد کرتا ہے۔
- سادہ زندگی: جتنی کم خواہشات ہوں گی، دل اتنا ہی مطمئن رہے گا۔
- قرآن کی تلاوت: جب بھی دل اداس ہو، قرآن کی تلاوت کریں یا اسے سنیں، یہ دل کے زخموں کا بہترین مرہم ہے۔
سکونِ قلب ہو تم، روح کا قرار ہو تم
مری حیاتِ محبت کے رازدار ہو تم
— غبار کٹیوری
یہی عادت تو ہے میری سکونِ قلب کا باعث
میں نفرت بھول جاتا ہوں، محبت بانٹ دیتا ہوں
اختتامیہ
یاد رکھیں کہ سکون باہر کی چیزوں میں نہیں، آپ کے اپنے اندر ہے۔ جب آپ اپنے خالق سے جڑ جاتے ہیں اور اس کی رضا میں راضی ہو جاتے ہیں، تو دنیا کی کوئی بھی پریشانی آپ کا سکون نہیں چھین سکتی۔
- #SukoonEQalb #InnerPeace #MentalPeace #IslamicQuotes #UrduBlog #UrduPoetry۔
- قدرتی مناظر (Nature): ایک پرسکون جھیل یا دریا کا کنارہ جہاں سورج ڈھل رہا ہو اور پانی میں اس کا عکس نظر آ رہا ہو۔ ایسی تصاویر انسانی ذہن کو فوراً سکون کا احساس دلاتی ہیں۔
- روحانیت (Spirituality): جائے نماز پر رکھی ہوئی تسبیح یا کھلی ہوئی قرآن پاک کی رحل، جس پر کھڑکی سے آتی ہوئی ہلکی سی روشنی پڑ رہی ہو۔ یہ تصویر بلاگ کے "ذکرِ الٰہی" والے حصے کے لیے بہترین ہے۔
- سادہ زندگی (Simplicity): مٹی کے پیالے میں رکھی چائے یا بارش کے دوران کھڑکی سے باہر کا منظر۔ یہ چھوٹی چھوٹی چیزیں دل کے اطمینان کی علامت ہیں۔
- خطاطی (Calligraphy): "سکون" یا "الا بذکر اللہ تطمئن القلوب" کی خوبصورت عربی یا اردو خطاطی جو ایک سادہ اور صاف پس منظر (Background) پر ہو۔
- ذکرِ الٰہی (Zikr-e-Ilahi): تسبیح اور پرسکون پس منظر جو اللہ کی یاد دلاتا ہے۔
- نماز میں خشوع (Namaz in Khushu): سجدے کی حالت، جو بندگی اور قلبی اطمینان کی انتہا ہے۔
- سادہ زندگی (Sada Zindagi): ایک کپ چائے اور کتاب، جو دنیا کی ہما ہمی سے دور سکون کی علامت ہے۔
- فطرت سے لگاؤ (Connect with Nature): کھلے میدان اور پہاڑ، جو روح کو تازگی بخشتے ہیں۔
آپ ان تصاویر کو اپنے بلاگ کے متعلقہ حصوں کے ساتھ لگا سکتے ہیں۔ یہ بصری مواد آپ کی تحریر کو مزید پر اثر بنا دے گا۔
**سکونِ قلب کیا ہے اور اسے کیسے حاصل کیا جائے؟**
سکونِ قلب (دل کا سکون یا اطمینانِ قلب) وہ اندرونی کیفیت ہے جہاں انسان کا دل مطمئن، پرسکون اور بے فکر ہو جاتا ہے۔ یہ کوئی ظاہری آرام نہیں بلکہ روحانی، ذہنی اور جذباتی سطح پر گہرا چین ہے جو پریشانیوں، اضطراب، حسد، غصے اور لالچ سے آزاد کر دیتا ہے۔
قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے اس کی سب سے خوبصورت تعریف اور راستہ خود بتا دیا ہے:
**"أَلَا بِذِكْرِ اللَّهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوبُ"**
(سورۃ الرعد: 28)
یعنی: **"خبردار! اللہ کے ذکر ہی سے دلوں کو سکون اور اطمینان ملتا ہے۔"**
یہ آیت بتاتی ہے کہ حقیقی سکون دنیا کی کسی چیز میں نہیں، نہ مال و دولت میں، نہ شہرت میں، نہ تفریح میں — بلکہ صرف اللہ کی یاد اور اس سے گہرے تعلق میں ہے۔
### سکونِ قلب کیوں کھو جاتا ہے؟
- حسد، کینہ، بغض اور تکبر جیسے باطنی امراض دل کو بھر دیتے ہیں۔
- حرص و لالچ، دوسروں سے موازنہ، اور دنیاوی خواہشات کی دوڑ۔
- گناہوں کا بوجھ اور اللہ سے دوری۔
- شکر کی کمی اور قناعت کا فقدان۔
### سکونِ قلب حاصل کرنے کے عملی اور اسلامی طریقے
یہاں چند اہم اور آسان طریقے ہیں جو قرآن و سنت سے ثابت ہیں:
1. **اللہ کا ذکر کثرت سے کریں**
سب سے بڑا نسخہ یہی ہے۔ صبح و شام تسبیحات (سبحان اللہ، الحمدللہ، اللہ اکبر)، درود شریف، استغفار اور اللہ کے اسمائے حسنیٰ کا ورد۔
ذکر دل کی غذا ہے — جتنا زیادہ، اتنا ہی سکون۔
2. **پانچ وقت کی نماز کی پابندی**
نماز اللہ سے براہ راست رابطہ ہے۔ اس میں جھکنا، سجدہ کرنا اور دعا مانگنا دل کو ہلکا کرتا ہے۔ نبی ﷺ مشکل وقت میں نماز کی طرف رجوع فرماتے تھے۔
3. **قرآن مجید کی تلاوت اور تدبر**
روزانہ تھوڑا سا قرآن پڑھیں، ترجمہ اور تفسیر کے ساتھ۔ قرآن دل کے زنگ کو صاف کرتا ہے اور سکون دیتا ہے۔
4. **قناعت اور شکر کی عادت ڈالیں**
جو کچھ اللہ نے دیا ہے اس پر راضی رہیں۔ روزانہ 5 نعمتیں گن کر شکر ادا کریں۔ شکر نعمتوں میں اضافہ کرتا ہے اور دل کو وسیع کرتا ہے۔
5. **توکل اور دعا**
تمام معاملات اللہ پر چھوڑ دیں۔ دعا مانگیں، خاص طور پر تہجد میں۔ دعا مومن کا ہتھیار ہے اور اس سے بے چینی ختم ہوتی ہے۔
6. **دل کے امراض دور کریں**
- حسد سے بچیں (یہ نیکیاں کھا جاتا ہے جیسے آگ لکڑی کو)۔
- معاف کرنے کی عادت ڈالیں۔
- لوگوں سے اچھا سلوک کریں، خدمت کریں، ایثار کریں۔
7. **اچھی صحبت اختیار کریں**
نیک لوگوں، علماء اور اولیاء کی مجلس میں بیٹھیں۔ اچھی صحبت دل کو منور کرتی ہے۔
### ایک چھوٹا سا عملی پلان
- صبح اٹھ کر 5-10 منٹ ذکر و استغفار۔
- نماز کے بعد 11 مرتبہ آیت "وَلِيَرْبِطَ عَلَىٰ قُلُوبِكُمْ" پڑھیں (سکون کے لیے مفید)۔
- دن میں 3-4 بار "حسبنا اللہ ونعم الوکیل" پڑھیں۔
- رات کو سونے سے پہلے 3 آیات الکرسی، معوذتین اور درود پاک۔
- ہر مشکل میں فوراً "لا حول ولا قوة إلا بالله" کہیں۔
سکونِ قلب کوئی ایک دن کا کام نہیں، یہ ایک مسلسل سفر ہے۔ جب ہم اللہ کی طرف رجوع کرتے ہیں، گناہوں سے توبہ کرتے ہیں اور اس کی رضا کو اپنی خوشی بنا لیتے ہیں تو دل خود بخود مطمئن ہو جاتا ہے۔
اللہ ہمیں سب کو سچا سکونِ قلب عطا فرمائے۔ آمین۔
اگر آپ اسے اپنانا شروع کر دیں تو چند ہی دنوں میں فرق محسوس ہو گا۔ 😊
### مزید اہم طریقے سکونِ قلب حاصل کرنے کے
1. *دل کی صفائی (تزکیہ قلب) پر توجہ دیں*
دل میں بغض، حسد، کینہ اور تکبر جیسے امراض ہوں تو سکون نہیں آتا۔ نبی ﷺ نے فرمایا:
*"الحسد یأکل الحسنات کما تأکل النار الحطب"*
(حسد نیکیوں کو اس طرح کھا جاتا ہے جیسے آگ لکڑی کو)۔
- عملی قدم: روزانہ کسی سے حسد محسوس ہو تو فوراً دعا کریں:
*"اللھم اغفر لی وله"* (اے اللہ! مجھے اور اسے معاف فرما)۔
- معافی مانگنے اور معاف کرنے کی عادت ڈالیں۔ جب دل صاف ہو گا تو سکون خود بخود آئے گا۔
2. *توبہ و استغفار کو معمول بنائیں*
گناہ دل پر بوجھ ڈالتے ہیں۔ استغفار دل کا زنگ صاف کرتا ہے۔
- روزانہ 100 مرتبہ *"أستغفر اللہ ربی من کل ذنب وأتوب إلیه"* پڑھیں۔
- خاص طور پر سحر کے وقت (تہجد کے قریب) استغفار کریں۔ حدیث میں ہے کہ استغفار سے رزق میں برکت اور دل میں سکون آتا ہے۔
3. *سورۃ الرحمن اور سورۃ یٰسین کی تلاوت*
- سورۃ الرحمن پڑھنے سے اللہ کی نعمتوں کا احساس ہوتا ہے، جو شکر بڑھاتا ہے اور سکون دیتا ہے۔
- سورۃ یٰسین کو "قلبِ قرآن" کہا جاتا ہے۔ پریشانی میں روزانہ پڑھیں، دل ہلکا ہو جاتا ہے۔
- ایک وظیفہ: ہر نماز کے بعد گیارہ بار *"وَ لِيَرْبِطَ عَلَىٰ قُلُوبِكُمْ وَ يُثَبِّتَ بِهِ الْاَقْدَامَ"* (سورۃ الانفال: 11) پڑھیں — یہ دل کو مضبوط اور مطمئن کرتی ہے۔
4. *توکل کو عملی شکل دیں*
توکل کا مطلب ہے اللہ پر مکمل بھروسہ، لیکن اس کے ساتھ کوشش بھی جاری رکھیں۔
- مشکل وقت میں بار بار *"حسبنا اللہ ونعم الوکیل"* پڑھیں (یہ نبی ﷺ کی دعا تھی جب مشکل آئی)۔
- اللہ کی مرضی پر راضی رہیں، چاہے نتیجہ جیسا بھی آئے۔ یہ دل کی بے چینی ختم کر دیتا ہے۔
5. *نیک اعمال میں اضافہ (نوافل، صدقہ، صلہ رحمی)*
- نوافل نماز (مثلاً اشراق، چاشت، تہجد) دل کو نورانی کرتی ہیں۔
- صدقہ روزانہ دیں، چاہے تھوڑا ہی ہو۔ نبی ﷺ نے فرمایا: صدقہ بلاؤں کو دور کرتا ہے اور دل کو سکون دیتا ہے۔
- رشتہ داروں سے صلہ رحمی کریں — یہ رزق اور عمر میں برکت لاتا ہے، اور دل کو خوشی دیتا ہے۔
6. *دنیاوی چیزوں سے دل ہٹائیں*
- دوسروں سے موازنہ نہ کریں (سوشل میڈیا پر کم سے کم وقت گزاریں)۔
- قناعت اختیار کریں: جو اللہ نے دیا اس پر راضی رہیں۔
- روزانہ 3-5 نعمتیں گن کر شکر ادا کریں۔ شکر نعمتوں میں اضافہ کرتا ہے اور دل کو وسیع کرتا ہے۔
7. *اچھی صحبت اور مجلسِ ذکر*
- نیک لوگوں کی صحبت اختیار کریں۔
- اگر ممکن ہو تو کسی عالم یا بزرگ کی مجلس میں بیٹھیں جہاں ذکر اللہ ہو — یہ دل کو براہ راست سکون دیتا ہے۔
### ایک آسان روزانہ کا شیڈول سکون کے لیے
- *صبح:* فجر کے بعد 10-15 منٹ ذکر (سبحان اللہ 33، الحمدللہ 33، اللہ اکبر 34) + استغفار 100 بار۔
- *دن میں:* مشکل محسوس ہو تو *"لا حول ولا قوة إلا بالله"* 100 بار۔
- *رات کو:* سونے سے پہلے آیت الکرسی + معوذتین + درود + استغفار۔
- *ہفتہ وار:* جمعہ کو سورۃ کہف پڑھیں (یہ دل کی حفاظت کرتی ہے)۔
یاد رکھیں، سکون ایک عمل ہے جو مسلسل اللہ کی طرف رجوع سے آتا ہے۔ جتنا آپ اللہ سے قریب ہوں گے، دل اتنا ہی مطمئن ہو گا۔
اللہ ہمیں سب کو حقیقی سکونِ قلب عطا فرمائے، اور ہماری پریشانیوں کو دور کرے۔ آمین۔
اگر کوئی خاص مسئلہ یا مزید وظیفہ چاہیے تو بتائیں! 😊
میں جانتا ہوں کہ زندگی کے اس شور میں دل کئی بار بوجھل ہو جاتا ہے۔
راتوں کو نیند نہیں آتی، سوچیں تھمتی نہیں، اور دل کہیں گم سا رہتا ہے۔
لیکن یقین رکھیں، حقیقی سکون کسی انسان، مال، شہرت یا آرام میں نہیں — وہ تو بس اللہ کی یاد میں چھپا ہے۔
جب ہم تھک کر، مايوس ہو کر، یا پریشان ہو کر اللہ کی طرف لوٹتے ہیں، تو وہ ہمیں کبھی خالی ہاتھ نہیں لوٹاتا۔
آج رات سونے سے پہلے بس ایک بار سجدے میں جھک جائیں اور دل کی گہرائیوں سے کہہ دیں:
**"یا اللہ! میرے دل کو تیرے ذکر سے مطمئن کر دے۔
میرے سینے کی تنگی کو کشادگی سے بدل دے۔
میرے دل کے زخموں پر تیرا رحم نازل فرما، اور مجھے وہ سکون عطا کر جو تیری یاد سے ملتا ہے۔"**
اور پھر دیکھیں… آہستہ آہستہ، کیسے دل ہلکا ہونے لگتا ہے۔
کیسے پریشانیاں کم ہوتی ہیں، اور اطمینان کی ایک ٹھنڈک دل میں اترتی ہے۔
یہ سفر ایک دن کا نہیں، زندگی بھر کا ہے — لیکن ہر چھوٹا قدم اللہ کی طرف آپ کو قریب لے جاتا ہے۔
*اللہ پاک ہمیں سب کو وہ سکونِ قلب عطا فرمائے جو نہ کسی دنیاوی چیز سے مل سکتا ہے، نہ کسی انسان سے — بس تیری یاد اور تیری رضا سے ملتا ہے۔*
*آمین یا رب العالمین۔*
دل سے دعا ہے کہ آپ کا دل ہمیشہ سکون، نور اور اللہ کی محبت سے بھرا رہے۔ 🤍🌙
(اگر چاہیں تو آخر میں ایک خوبصورت آیت یا حدیث بھی شامل کر سکتے ہیں، جیسے:
*"أَلَا بِذِكْرِ اللَّهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوبُ"* — اور یہاں ایک چھوٹی سی تصویر یا کالگرافی کا ذکر کر کے ختم کریں
میں جانتا ہوں کہ زندگی کے اس شور و غوغا میں دل کئی بار بوجھل ہو جاتا ہے۔
راتوں کو نیند غائب ہو جاتی ہے، سوچیں تھمتی نہیں، اور دل کہیں کھو سا جاتا ہے۔
لیکن یقین رکھیں، حقیقی سکون کسی مال، مرتبے، شہرت یا کسی انسان میں نہیں — وہ تو بس اللہ کی یاد میں چھپا ہے۔
جب ہم تھک کر، مايوس ہو کر، یا پریشان ہو کر اللہ کی بارگاہ میں جھکتے ہیں، تو وہ ہمیں کبھی خالی ہاتھ نہیں لوٹاتا۔
آج رات سونے سے پہلے بس ایک بار سجدے میں جھک جائیں اور دل کی گہرائیوں سے التجا کریں:
**"یا اللہ! میرے دل کو تیرے ذکر سے مطمئن کر دے۔
میرے سینے کی تنگی کو کشادگی سے بدل دے۔
میرے دل کے زخموں پر تیرا رحم نازل فرما، اور مجھے وہ سکون عطا کر جو تیری یاد سے ملتا ہے۔
اے رب! میرے دل کو دنیا کی ہر بے چینی سے آزاد کر دے، اور تیری محبت سے بھر دے۔ آمین۔"**
اور پھر دیکھیں… آہستہ آہستہ، کیسے دل ہلکا ہونے لگتا ہے۔
کیسے پریشانیاں کم ہوتی ہیں، اور اطمینان کی ایک ٹھنڈک روح میں اترتی ہے۔
یہ سفر ایک دن کا نہیں، زندگی بھر کا ہے — لیکن ہر چھوٹا قدم اللہ کی طرف آپ کو قریب لے جاتا ہے۔
**اللہ پاک ہمیں سب کو وہ سکونِ قلب عطا فرمائے جو نہ کسی دنیاوی چیز سے مل سکتا ہے، نہ کسی انسان سے — بس تیری یاد اور تیری رضا سے ملتا ہے۔**
**أَلَا بِذِكْرِ اللَّهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوبُ**
(سورۃ الرعد: 28)
دل سے دعا ہے کہ آپ کا دل ہمیشہ سکون، نور، اور اللہ کی محبت سے بھرا رہے۔ 🤍🌙
**شکریہ کہ آپ نے یہ مضمون پڑھا۔ اگر یہ آپ کے دل کو چھو گیا تو کمنٹ میں ضرور بتائیں — اللہ آپ سب کو سکون عطا فرمائے۔ آمین۔**
#sukoon e qalb#سکونِ قلب

Comments
Post a Comment