زندگی کے کچھ موڑ ایسے ہوتے ہیں جہاں الفاظ ساتھ چھوڑ جاتے ہیں اور دل کی کیفیت کو بیان کرنے کے لیے صرف خاموشی باقی رہ جاتی ہے۔ جب کوئی اپنا بدل جائے یا بنا بتائے دور چلا جائے، تو دل کے اندر ایک ایسا خلا پیدا ہوتا ہے جسے دنیا کی کوئی مادی خوشی نہیں بھر سکتی۔ انسان باہر سے مسکراتا رہتا ہے، مگر اندر ہی اندر ایک بے نام سی اداسی پرورش پا رہی ہوتی ہے۔ یہ تحریر اور اشعار ان تمام رنجیدہ دلوں کے نام ہیں جو اپنے جذبات کو لفظوں میں بیان نہیں کر پاتے اور تنہائی میں اپنے دکھ خود
.سہتے ہیں
محبت میں بے وفائی اور خاموشی
محبت اگر سچی ہو تو اس کا ختم ہونا انسان کی روح کو زخمی کر دیتا ہے۔ جب رشتے ٹوٹتے ہیں تو صرف دو انسان الگ نہیں ہوتے، بلکہ ان کے ساتھ جڑے ہوئے لاتعداد خواب، امیدیں اور آنے والے کل کی خوشیاں بھی دم توڑ دیتی ہیں۔
ہم نے سوچا تھا کہ بتائیں گے سب دکھ تم کو
پر تم نے تو یہ بھی نہ پوچھا کہ اتنے اداس کیوں ہو!
اس شعر میں اس تکلیف کی عکاسی کی گئی ہے جب آپ کسی اپنے سے سنبھالنے اور حال پوچھنے کی توقع رکھتے ہیں، لیکن وہ آپ کی اداسی اور دکھ سے بالکل بے خبر اور بے نیاز نظر آتا ہے۔
تنہائی کا سفر اور بچھڑنے کا ملال
بچھڑ جانے والے تو اپنی زندگی میں آگے بڑھ جاتے ہیں لیکن ان کی یادیں انسان کے سائے کی طرح ساتھ رہتی ہیں۔ رات کی تنہائی اور خاموشی ان زخموں کو دوبارہ ہرا کر دیتی ہے جو دن کے اجالے میں دنیا کی بھیڑ بھاڑ میں چھپ جاتے ہیں۔
کبھی تنہائی کا عالم، کبھی درد کا سفر
تیرے بغیر اب ہر لمحہ لگتا ہے بے اثر!
کچھ اس طرح بچھڑے ہیں ہم سے وہ روٹھ کر
جیسے کبھی زندگی میں ہمارا رابطہ ہی نہ تھا!
محبت کے بعد کی تنہائی انسان کو اندر سے مضبوط تو بنا دیتی ہے، لیکن اس کی معصومیت اور دوسروں پر دوبارہ بھروسہ کرنے کی صلاحیت کو ہمیشہ کے لیے چھین لیتی ہے۔
خود سے گفتگو اور آخری احساس
وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ انسان اپنے حالات سے سمجھوتہ کرنا سیکھ لیتا ہے۔ انسان یہ جان جاتا ہے کہ جو چلا گیا وہ شاید کبھی لوٹ کر نہیں آئے گا، مگر پھر بھی دل کے کسی کونے میں ایک چھوٹی سی آس ہمیشہ باقی رہتی ہے۔
تم سے اب کوئی گلہ نہ شکایت ہے
بس اپنی ہی تقدیر سے تھوڑی سی عداوت ہے!
اگر آپ بھی اپنی زندگی میں کسی ایسے ہی دور سے گزر رہے ہیں یا آپ کا دل بھی کسی کی یاد میں اداس ہے، تو یاد رکھیں کہ یہ احساسات آپ کی حساسیت اور سچے ہونے کا ثبوت ہیں۔
اگر یہ تحریر اور اشعار آپ کے دل کو چھو گئے ہیں، تو اس پوسٹ کو واٹس ایپ اور سوشل میڈیا پر اپنے دوستوں کے ساتھ لازمی شیئر کریں اور نیچے کمنٹ سیکشن میں اپنی رائے کا اظہار کریں
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں